World Trade Organization
 


URDU SECTON

World Trade Organization (WTO) Cell

عالمی تجارتی تنظیم

دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کی نئی جغرافیائی تقسیم سامنے آئی۔ ایک اور بین الاقوامی نظام قائم کرنے کے لئے مختلف ادارے وجود میں لائے گئے۔ اقوام متحدہ عالمی امن کے لئے قائم کیا گیا۔ مالیاتی نظام کو عالمی سطح پر مر بوط کرنے کے لئے مالیاتی ادارے قائم کئے گئے۔ جن میں عالمی بنک اور نین الاقوامی مالیاتی فنڈ سرفہرست ہیں۔ بین الاقوامی تجارت کو ضوابط کے تحت پابند کرنے کے لئے عالمی تجارتی تنظیم یا انٹرنیشنل ٹریڈ آرگنائزیشن (ITO) کا نظریہ پیش کیا۔ 1948کو ہوانا کانگرس میں طے کیا گیا کہ اقوام متحدہ کی ایک اور ایجنسی تجارتی نظمو ضبط، روزگار، عالمی سرمایہ کاری اور خدمات کے لئے قائم کی جائے گی۔ لیکن اس سے پیشتر 1946میں 23ممالک نے فیصلہ کر لیا تھا کچھہ تجارتئ قوانین اور کسٹم ٹیرف پر مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے 1947میں ایک معاہدہ کیا جو کہ جنرل ایگریمنٹ آن ٹریڈ اینڈ ٹیرف (GATT) کہلایا۔ ان مکہوں کی عالمی منڈی میں رسائی تھی۔ ملکی معیشت مضبوط اور تجارت ترقی یافتہ تھی۔ اکرچہ(ITO) چارٹر اقوام متحدہ کے اجلاس میں 1948میں منظور ہو گیا تھا مگر امریکی حکومت نے اس کی باقاعدہ توثیق سے انکار کر دیا۔ یوں گیٹ (GATT) ہی چند ملکوں کے درمیان تجارت کو نظم و ضبط کے تحت پا بند کرنے کا آلہ کار رہا۔

گیٹ(GATT) نے عالمی سطح پر تجارتی آزادی اور خود مختاری کے اصولوں کو اپنائیا جس کے تحت محصولات کو مناسب حد تک کم کرنا اور آزاد تجارت کے تحت کاروباری معاملات میں مقابلے کے رجہان کو فروخ دینا شامل تھا۔ اس ادارے نے محصالات کی مد میں کافی حد تک کمی کروائی اور عالمی تجارت اور اس سے پیدا ہونے والے اختلافات کو دور کرنے کے لئےمضاکرات کے لئے قوانین اور ضوابط مقرر کیے۔ اس مہائدے میں مضید ممالک شامل ہوتے گئے اور جنوری 2002 تک اس کی تعداد 144ہو گئی۔

قیام

عالمی تجارتی ادارہ قائم کرنے کی خواہش پھر بھی ان ممالک کے دل میں رہی۔ جس کے لئے مختلف مزاکراتی رائونڈ ہوئے۔ 1986سے 1993تک آٹھہ اجلاس ہوے۔ اور کئی سو صفہات پر مبنی مرتب کی گئی۔ چند ایک قابل زکر صفارشات حسب زیل ہیں۔

1۔ عالمی تجارتی تنظیم(WTO) کے قیام کے لئے عالمی تجارتی حکم نامہ جاری کیا جائے۔
2۔ ایسا ڈھانچہ قائم کیا جائے جو تجارت سے متعلقہ سرمایاکاری کے لئے مناسب اقدامات کرے۔
3۔ کوٹا سسٹم ختم کرتے ہوئے محصولات کورواج دیا جائے یعنی کوٹا سسٹم کو محصولات میں ضم کر دیا جائے۔
4۔ کسٹم سے متعلقہ شعبہ جات کو مستحکم کیا جائے۔
5۔ ایسے قوانین بنائے جائیں جن سے زخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہو۔ اور آزادانہ تجارت کے راسطے میںحایل روکاوٹیں کم ہو سکیں۔
6۔ ایک ایسا ادارہ تشکیل دیا جائے جو بین الممالک تصفیہ طلب امور کو سدھارے۔ تا کہ آزادانہ تجارت کا فروغ ممکن ہو۔
7۔ زراعت اور خدمات کے شعبوں میں آزاد منڈی کے رجہان کو فروغ ملے۔

ان سفارشات کی روشنی میں عالمی تجارتی حکم نامہ جاری کیا گیا۔ جس کے تحت یکم جنوری 1995 کو مستقل بنیادوں پر عالمی تجارتی تنظیم (WTO) قائم ہوئی اور اس کے ساتھہ ہی تمام عالمی تجارتی معاہدےاس عالمی تجارتی تنظیم کا حصہ بنا دئے گئے۔ یوں معاہدہ برائے ذراعت، معاہدہ برائے حفظان صحت اور برائے آزاد تجارت سے متحارب عوامل اس کا با قائدہ حصہ بنے۔ اور آزاد عالمی تجارت کے فروغ کا دائرہ وسع ہو گیا۔

عالمی تجارتی تنظیم کے بارے میں عام آدمی کو اطلاعت بہت کم ہہں۔ جب کبھی وہ اس کا لٹریچر اٹھا کر اس کے متعلق جانا چاہتا ہے تو وہ گورکھہ دھندے میں الجھہ جاتا ہے۔ کیوں ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات کا مطا لعہ مشکل ہے۔ اسے سادہ زبان میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم ایک سیکرٹریٹ ہے جو رکن ممالک کے درمیان معاہدے دے تحت قائم ہوا ہے- جو قوانین اور معاہدوں کے عملدرآمد کی جگرانی کرے گا اور سہولیات مہیا کرے گا۔ اس لے عالمی تجارتی تنظیم کو سمجھنے کے لئےاس کے تحت ہونے والے معاہدوں اور قوانین کو جاننا ضروری ئے جس کی تفصیل آئندہ صفحات میں دی جا رہی ہے-

تنظیم کے چیدہ چیدہ مقاصد

اس تنظیم کا بنیادی مقصد عالمی تجارت کو ایسے اصولوں کے تحت چلانا ہے جس سے آزاد منڈی کی تجارت کا فروغ ممکن ہو جس کے لئے حسب زیل تین اصول طے کئے گئے ہیں-

1۔ بغیر کسی امتیاز کے تجارت کا فروغ-
2۔ تجارتی منڈیوں کا آزادانہ حصول-
3۔ تجارتی سرگرمی کے لئے صحت مند مقابلہ-

قوائد و ضوابط

ان ئین اصولوں کی روشنی میں چارٹر کے آرٹیکل 999 کے تحت اس تنظیم کے فرائض منصبی کی ادائیگی کے لئے حسب زیل پائچ امور طے کئے گئے-

1۔ تنظیم کے مفادات، حکمت عملیوں اور احکامات پر عمل کروانا، تکنیکی معاملات میں معاونت اور ترقی پزیر ممالک کے لئے محصولات طے کرنے میں مد فراہم کرنا-

2۔ عالمی معاہدات پر عمل درآمد کے لئے سہولت اور مد فراہم کرنا-

3۔ عالمی سطح پر ایسا فورم تشکیل دیا جائے جہاں رکن ممالک بحث و مباحثہ اور تبادلہ خیال کر سکیں-

4۔ تنازعات کے حل کے لئے معاونت فراہم کرنا-

5۔ دیگر عالمی اداروں سے ایسی رابطہ کاری جس سے معاشی معاونت کا حصول ممکن ہو-

عالمی تجارتی تنظیم (WTO) اور گیٹ (GAAT) میں فرق

عالمی تجارتی تنظیم(WTO) اور گیٹ(GAAT) ہی کا تسلسل ہے۔ دونوں کا مقصد آزادانہ عالمی تجارت کو فروغ دینا ہے مگر ان کے کام و کردار میں کچھہ بنیادی فرق ہے جو کہ ھسب زیل ہے-

1۔ عالمی تجارتی تنظیم کی حیثیت مستقل ہے جبکہ گیٹ کو یہ درجہ حاصل نہ تھا-

2۔ رکن ممالک عالمی تجارتی تنظیم کے فیصلوں اور احکامات کے پابند ہیں کیونکہ تمام رکن ممالک نے چارٹر دستخط کئے ہیں جبکہ گیٹ کی صورت حال مختلف تھی-

3۔ عالمی تجارتی تنظیم کا ایک مستقل صدر مقام ہو گا جبکہ گیٹ (GATT) کا نہیں تھا-

4۔ کئی ایک معاہدات جو کہ باقاعدہ طور پرگیٹ میں شامل نہ تھے عالمی تجارتی تنظیم کا حصہ بن گئے ہیں-

٥۔ تنازعات کے حل کے لئے ڈبلیو ٹی او کی زیلی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جبکہ گیٹ کیں ایسی سہولت نہیں تھی۔

تنظیمی ڈھانچہ

عالمی تجارتی تنطیم رکن ممالک کے وزارائے تجارت پر مشتمل اعلٰی ترین فیصلہ سازادارہ ہےجس کا اجلاس روسال میں ایک بار لازمَا ہوتا ہے۔ اس دوران رکن ممالک کے نمائندے جنرل کونسل میں کئی بار اجلاس صدر دفتر جنیوا میں کرتے ہیں۔ وزارتی کانفرنس کے تحت جنرل کونسل ہے اور کئی کمیٹیاں ہیں جن کی تفصیل درج زیل ہے۔

1. تجارت سے متعلق گفت و شنید کمیٹی Trade Negotiation Committee

2. حل طلب تنازعات کی کمیٹی Dispute Settlement Committee

3. تجارت سے متعلقہ پالیسی سازی کی جائزہ کمیٹی Trade Policy Review Committee

4. تجارت سے متعلقہ دانشورانہ ملکیتی حقوق کی کمیٹیCommittee on Trade Related Aspects of Intellectual Property Rights TRIPS

5. تجارتی خدمات کی کمیٹی Committee on Trade in Services

6. سامان کی تجارت کی کمیٹی Committee on Trade in Goods

7. کمیٹی برائے حکومتی سطح کی خریداری Committee on Govt. Procurement

8. معلومات اور ٹیکنالوجی میں مصنوعات میں فروغ تجارت کی کمیٹی Committee on Expansion of Trade in Information Technology Products

ٹجارتی حکمت عملیوں کے جائزے کے لئے ادارے کے طور پر رکن ممالک کا اجلاس ہوتا ہے جس میں رکن ممالک کی تجارتی حکمت عملیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور تنازعات کے حل بھی تلاش کئے جاتے ہیں۔ مختلف کمیٹیاں، ورکنگ گروپ اور ورکنگ پارٹیاں اہم معاہدات اور معاملات پر غور کرتی ہیں جن میں تجارت سے متعلق غیر منصفانہ قوانین نئی رکنیت کی درخواستیں اور علاقائی تجارتی سمجھوتے وغیرہ شامل ہیں۔ یہ کمیٹیاں اپنی رپورٹیں جنرل کونسل کو بھیجتی ہیں جیاں رکن ممالک کے نمائندے اس پر غور کرتے ہیں۔

عالمی تجارتی تنظیم کا صدر دفتر

اس تنطیم کا صدر دفتر جنیوا سوئزر لینڈ میں ہے۔ موجودہ ڈائریٹر جنرل کا تعلق تھائی لینڈ سے ہے جو ٥٥٠ اہلکاروں پر مبنی سیکرٹریٹ کےسربراہ ہیں۔ ان کی زمہ داری تنظیم کے زیلی اداروں اور وزارتی کانفرنس کو فنی امداد فراہم کرنا ہے اور ترقی پزیر ممالک کو فنی امداد اور عالمی تجارتی رجحان کا تجزیہ کرنا ہے۔

تنظیم کے نفاز کے بعد اثرات

ڈبلیو ٹی او یکم جنوری ٢٠٠٥ سے نافزالعمل ہوا۔ اس کے بعد اس کے عالمی تجارت پر مختلف مثبت اور منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر یہ اثرات زرعی تجارت پرظاہر ہوئے۔ کیونکہ ترقی پزیرممالک میں سیاسی و سماجی تنظیموں پر زمینداروں کا اثر وجفوز ہوتا ہے لہٰذا ڈبلیو ٹی او کے تحت کئے گئے فیصلے ان مملک کی سیاسی زندگی پر بھی اثرانداز ہو رہےہیں۔ پاکستان بجیادی طور پر زرعی ملک ہے اور اس کی تمام تر برآمدات کا انحصارزرعی اشیاء پر ہے۔ اس لئے اس کی تجارت پر اثرات مرتب ہونے کے امکانات ہیں۔ خاص طور پر ان اشیاء پر جن میں منڈی کے مقابلہ میں پیداواری لاگت زیادہ ہے۔ اسی لئےابھی سے ہمیں ایسی فصلہوں پر توجہ دینی چاہیے جو کہ پیداواری لاگت کے لحاظ نفع بخش ہوں۔ علاوہ ازیں مقابلے کی صلاحیت بڑھانے کے لئے ہمیں اپنے مال کی کوالٹی بہتر کرنے کے لئے خاص طور پر توجہ دینی ہوگی۔ کوالٹی کو بہتر کرنے کے لئے مال کی درجہ بندی محفوظ کرنے کے مناسب طریقہں، پیکینگ اور مال برداری پرخاص تونہ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عالمی منڈی میں نہ صرف مال کی مناسب قیمت وصول ہو سکے بلکہ اصلی اور صحیح حالت میں منڈی تک پہنچ سکے۔ کوالٹی کو بہتر کرنے کے لئے ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہو گا کیونکہ کئی ایک معاہدوں میں ان عوامل پر عمل کرنے کے لئے خاص طور پرہدایات دی گئی ہیں۔

خصوصی اہمیت کے حامل معاہدات

درج ذیل معاہدات کے بارے میں جاننا عالمی تجارت میں دلچسپی رکھنے والے ہر فرد کے لئے ضروری ہے۔

1. زراعت کے بارے میں معاہدہ۔ Agreement on Agriculture
2. حفظان صحت کے بارے میں معاہدہ۔ Sanitary & Phytosanitary Measures
3. تنازعات کے حل کے بارے میں معاہدہ۔ Dispute Settlement measures.
4. ذخیرہ اندوزیکی حوصلہ شکنی کے قوانینAnti-dumping Laws
عالمی تجارتی تنظیم میں ترقی پزیر ممالک کی حیثیت
اس تنظیم میں ترقی پزیر ممالک کی تعداد ایک تہائی ہے۔ اس تنظیم کے طریقہ کار میں ان ممالک کے لئے بہت خصوصی ترغیبات موجود ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

1. تجارتی مواقع کی ترویج۔Information on Business Opportunities

2. معاشی حکمت عملیوں میں لچک۔ Flaxibility in Economic Policies

تکنیکی تربیت میں معاونت

عالمی تجارتی تنظیم ان رکن ممالک میں اپنے پروگرام اور طریقہ کار سے آگاہی پیدا کرنے کے لئےمختلف سیمینارز، بحث مباحثےاور سمپوذیم منعقد کراتی ہے تا کہ ڈبلیو تی او کے چارٹر کے مطابق ان ممالک میں قانون ساذی ہو سکے اور عالمی تجارت سے متعلقہ معلومات حاصل کر کے اس پر عمل پیرا ہو سکیں۔

عالمی تجارتی تنظیم کے تحت تجارتی فوائد

1. یہ ایک ایسی تنظیم ہے جو عالمی امن کی داعی ہے اور علاقائی و عالمی تناذعات کو ختم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔
2. اس تنظیم میں تناذعات کو اصولوں اور قوانین کے تحت ختم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
3. یہ تنظیم طاقت اور احکامات کی چھڑی کی بجائے دوستانہ ماحول میں کام کرتی ہے۔
4. اشیاء صرف پر لاگت کی کمی سے آذاد تجارت کو فروغ دیتی ہے۔
5.صارف کو اشیائے صرف کی خریداری میں چناؤ کے ذیادہ سے ذیادہ مواقع فراہم کرتی ہے۔
6. آذاد تجارت سے آمدن میں اضافہ ہوتا ہے۔
7. آذاد تجارت سے معیشت کی نشوونما بہتر انداذ میں ہوتی ہے۔
8. اس پر عمل پیرا ہونے سے تجارتی سرگرمی میں روانی پیدا ہوتی ہے اور لاگت کم ہوتی ہے۔
9. خاص معاہدات کے لئے حکومتوں پر کوئی خصوصی دباؤ نہیں ہوتا۔
10. یہ تجارتی نظام بددیانتی کا انسداد کرتا ہے۔

عالمی تجارتی تنظیم سے پیدا ہونے والے ممکنہ خدشات۔

1. چونکہ ترقی یافتہ ممالک کی پیداوار بڑے پیمانے پر ہوتی ہے لٰہزا پیداواری لاگت کم ہوتی ہے۔ اس ما مقابلہ ترقی پذیر مملک کی اشیاء نہیں کر سکیں گی۔

2. ترقی یافتہ ممالک کی پیداواری اشیاٰء کے پیچھے مضبوط ٹریڈمارک اور اشتہار باذی کی طاقت ہوتی ہے۔ اس کا مقابلہ ملکی صنعت نہیں کر سکے گی۔

3. ذرعی پیداوار میں بڑے وسائل ہونے کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک قانونی ھدود کے اندر رہتے ہوئے سبسڈی دے سکیں گے جبکہ ترقی پذیر ممالک کے لئے محدود وسائل کی وجہ سے مشکل ہو گا۔

4. ماحولیاتی اور ایسے ہی دوسرے قوانین کی وجہ سے ترقی پزیر ممالک کی اشیاء ترقی یافتہ ممالک کیں جگہ نہیں پا سکیں گی۔

5. اعلٰی تعلیم، تحقیق، بہتر افرادی قوت کی وجہ سے مذاکرات اور عدالتوں میں انہیں پرتری حاسل ہوگی۔

ترقی پذیر مملک کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ عالمی تجارت معاہدہ ایک حقیقت ہے جس کے اراکین کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم کے فوائد حاصل کرنے اور ممکنہ خدشات سے بچنے کے لئے محنت اور کوشش کرنے ہو گی۔

WTO یہ یقینی بناتی ہے کہ صارف اور پیداوار کنندہ کو علم ہو کہ انہیں تیار شدہ اشیاء، پرزے، کام مال اور کدمات ملتی رہیں گی اور ان میں پسند کرنے کا اختیار ہو گا۔ اس سے پیدا کرنے والے اور برآمد کنندگان کو علم ہو گا کہ بیرونی منڈیاں اس کے لئے کھلی رہیں گی یا نہیں۔

ڈبلیوٹی او کے تحت معاہدے رکن ممالک کے درمیان تجارت کو قانونی شکل دیتے ہیں کیونکہ ان قوانین کے رکن تمام ممالک پابند ہوتے ہیں جس سے اشیاء پیداکرنے والے، خدمات مہیا کرنے والوں اور برآمدات کنندگان کو یقین ہوتا ہے کہ ان کے قوانین کے تحت ایسا تجارتی ماحول میسر ہو گا جس میں وہ اپنی تجارت و برآمد کی بہتر منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔

عالمی تجارتی ادارے میں رکن مملک کی رضامندی سے فیصلے کئے جاتےہیں جن کی توثیق ممبران کا اجلاس کرتا ہے۔ تناذعات کے طے کرنے کے طریقہ کار DSO کے تحت ممبر ممالک کے درمیان ہونے والے اختلافات کو عدالتی طریقہ کار کے مطابق معاہدوں اور قوانین کی تشریح کی روشنی میں طے کیاجاتا ہے جن کی وجہ سے ممالک کے درمیان تجارتی اختلافات کو سیاسی اور فوجی تصادم کی تہج پر جانے تک روکا جا سکتا ہے۔

عالمی تجارتی تنظیم کے بارے میں کوئی کتابچہ یا کتاب امرت دھارا نہیں بن سکتی جس کے مطالعہ سے ڈبلیو ٹی او پرکماحقہ دسترس ھاصل ہو جائے۔ یہ تو ایک ایسی تنظیم اور ایسا عمل ہے جس کے ہر شعبے میں ماہرین کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ان ماہرین کے لئے آنے والے برسوں میں روذگار اور کدمات کے نئے مواقع پیداہونگے۔

نیوٹن نے ایک بار کیا تھا کہ وہ تو چلتے جلتے علم کے صرف ساحل پرپہیچا ہے اور اس کے سامنے ایک کھلا سمندر پڑاہے۔ ہم نے بھی آپکو صرف ساحل پر لاکھڑا کیا ہے۔ ڈبلیوتی او اور عالمی ادارہ تجارت کا ایک سمندر آپ کے سامنے کھلا پڑا ہے۔

عالمی تجارتی تنظیم کے تحت شامل معاہدات

1. کسٹم سے متعلقہ امور کا تجزیہ۔ Customs Valuation

2. جہاز پرسامان لادنے سے پہلے جانچ پڑتال Pre-shipment Inspection

3. خوردنی اجناس اور کھیت سے متعلق حفظان صحت کے اصول۔Regulations for Farm Standard & Food Safety

4. اشیاء درآمد کرنے کا لائسنس Import Licencing

5.تحفظات Safe Guards

6. رعائتیں Subsidies

7. رعائتیں اور غورطلب معاملات Subsidies & Countervelling Measures
8. ذخیرہ اندوذی کی حوصلہ شکنی۔ Anti Dumping Laws

9. تجارت سے متعلقہ سرمایہ کاری امور Trade RElated Investment Measures
10۔ ٹیکسٹائل اور کپڑے سے متعلقہ معاہدہ۔ Textile & Clothing

11۔ ذراعت Agriculture

12. مصادری قوانین Rules of Origin

13. کاروباری اور پیشہ ورانہ خدمات۔ Business & professional Services

14. اطلاعات رسانی۔ Communications

15. تقسیم خدمات Distribution Services

16. ماحولیاتی خدمات۔ Environmental Services

17. انجینئرنگ اور تعمیراتی خدمات۔ Construction & Engineering Related Services

18. مالیاتی خدمات۔ Financial Services

19.صحت عامہ سے متعلق خدمات۔ Health Services

20. سیاحت و سفر سے متعلقہ خدمات Tourism & Travel Related Services

21. سیروتفریح سے متعلقہ خدمات۔ Recreational Cultural & Supporting Related Services

22. ذرائع نقل و حمل سے متعلقہ خدمات۔ Transport Services

23. دیگر خدمات Other Services

24. پیٹینٹس Patents

25. کاپی رائٹ۔ Copy Right

26. صنعتی نمونہ سازی Industrial Designing

27. ارضیاتی اشارہ جات۔ Geographic Indications

28. مخفی اطلاعات Undisclosed Information

 
 
 
News Update
 
 
Reference Center
 
 
 
 
yiiyi